تاج و گور

Tahreem Umer's Blog

دراز کے اوپر رکھا رسالہ اٹھا کر میں نے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائی۔

رسالہ سینے پر رکھ کر گرم یخٓنی کا سپ لیا اور آنکھیں بند کرلیں۔ کچھ چیزوں کو سلجھانے کے لئے فرصت سے بیٹھنا پڑتا ہے۔ میں الجھے دھاگوں کو توڑنے فرصت سے بیٹھی تھی۔ جن کو سلجھاتے سلجھاتے میری انگلیاں فگار ہونے لگی تھی۔

یخنی اچھی تھی۔ پر نمک کچھ تیز تھا۔ سامنے الماری میں سفید و سلور کا امتزاج کچھ دھیما سا ہو گیا تھا۔ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے میک اپ برشز اداس تھے۔۔ جار میں کھڑے وہ اک دوسرے پر جھکے پڑتے تھے۔ ڈریسنگ کی سفید سطح پر سیاہ دائرہ سا ابھرا ہوا تھا۔

کل آبی سے میری نیل پینٹ کی شیشی گر کر ٹوٹ گئی تھی۔ مجھے یاد آیا۔ سفید بیڈ شیٹ پر بھی کہیں سیاہ کی انمٹ سی چھینٹ تھی۔ نہ مٹنے والا داغ۔ میں نے سر بیڈ کراؤن سے ٹکا کر…

View original post 130 more words